ابراہیم انیاس کولخی

إبراهيم إنياس الكولخي

–

سینیگال کے عالم اور صوفی شیخ (1900ء–1975ء)، تیجانی «فیضہ» کے حامل اور کولخ میں مدینہ بائے کے بانی۔ 1929ء میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ طریقے میں شیخ تیجانی کے خلیفہ بن گئے ہیں؛ ان کی شاخ تیجانیہ کی دنیا بھر میں سب سے بڑی شاخ بن گئی اور ان کے پیروکار پورے مغربی افریقہ، خاص طور پر شمالی نائجیریا، میں پھیل گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · mystic · writer
خطہ
west-africa-sahel
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحي عارفي · عبد الحمید خان بھاشانی · عبد الماجد دریابادی · شیخ عبد المجید سندھی · عبد الله الموسوي الشيرازي

کہانی میں مقام

    sufi (مستند) · sunni-maliki (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    پرورش اور طلب علم

    ان کے والد الحاج عبد اللہ انیاس (وفات 1922ء) سالوم کے علاقے میں تیجانیہ کے اہم ترین نمائندے تھے۔ ابراہیم نے انہی کے پاس روایت ورش میں قرآن حفظ کیا، کسی اور سے نہ پڑھا، اور ان کے ساتھ کولخ منتقل ہوئے جہاں ان کے والد نے لونا انیاسین کی زاویہ قائم کی۔ والد کی وفات کے بعد ان کے بڑے بھائی محمد الخلیفہ جانشین بنے، جبکہ ابراہیم کوسی مبتیین میں پڑھاتے رہے۔ انہیں کئی علما سے اجازتیں ملیں، جن میں احمد سکیریج شامل ہیں جنہوں نے 23 صفر 1358ھ کو انہیں اجازت دی، اور محمد عبد الحئی الکتانی۔12

    فیضہ اور مدینہ بائے

    1929ء میں انیاس نے اعلان کیا کہ انہیں اسرار معرفت کی کنجیاں عطا ہوئی ہیں اور وہ طریقے میں شیخ احمد تیجانی کے خلیفہ بن گئے ہیں — یہی «فیضہ» یعنی سیلاب ہے۔ 1930ء میں مخالفین سے تصادم کے بعد انہوں نے کولخ میں مدینہ بائے میں نئی زاویہ قائم کی۔ 1937ء میں اپنے پہلے حج پر کانو کے امیر عبد اللہ باییرو نے ان سے بیعت کی، جس کے ساتھ شمالی نائجیریا کے بیشتر تیجانی مشائخ ان کے ساتھ ہو گئے، اور ان کی شاخ — انیاسی تیجانیہ — دنیا میں طریقے کی سب سے بڑی شاخ بن گئی۔ 1961ء میں انہوں نے جامعہ ازہر میں جمعے کی نماز کی امامت کی — وہ ایسا کرنے والے پہلے مغربی افریقی تھے — اور شیخ الاسلام کہلائے؛ وہ رابطہ عالم اسلامی کے نائب صدر اور اپنے دور کے کئی رہنماؤں کے مشیر رہے۔23

    تصانیف اور اسفار

    انیاس نے تقریباً پچھتر کتابیں چھوڑیں، جن میں «کاشف الالباس عن فیضۃ الختم ابی العباس»، «روح الادب» جو انہوں نے اکیس برس کی عمر میں لکھی، «جواہر الرسائل» اور «الدواوین الستۃ» شامل ہیں، اور انہوں نے حجاز، مصر، مراکش، ہندوستان، پاکستان اور دیگر علاقوں کا سفر کر کے طریقے کی اشاعت کی۔1

    مکتب اور وفات

    فرانسیسی مقالہ اپنے متن میں انہیں مشہور صوفی استاد اور تیجانی جماعت کے اندر روحانی رہنما کہتا ہے، اور انگریزی مقالہ مغربی افریقہ میں تیجانی صوفی طریقے کی ان کی قیادت بیان کرتا ہے۔ ان کی فقہ کسی مقالے کے متن میں مذکور نہیں: انگریزی اطلاع خانہ، بریگاگلیا کی 2013ء کی تحقیق کے حوالے سے، فقہ مالکی اور عقیدہ اشعری بتاتا ہے، اور عربی اطلاع خانہ فقہ مالکی اور اہل سنت والجماعت اشاعرہ کا عقیدہ بتاتا ہے، جبکہ وکی ڈیٹا کی قیمت صرف اسلام ہے۔ ان کا انتقال لندن میں 26 جولائی 1975ء کو ہوا اور وہ مدینہ بائے میں دفن ہوئے۔3214

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Studied under
    أحمد سكيرج

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    أحمد سكيرج

    ماخذ

    1. Ibrahim Niass — Arabic Wikipedia
    2. Ibrahim Niass — English Wikipedia
    3. Ibrahim Niass — French Wikipedia
    4. Ibrahim Niass — Wikidata Q655781
    • Ibrahim Niass — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ابراہیم انیاس کولخی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ibrahim-niass/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    أحمد سكيرج

    Draft card for Ahmed Skirej, the Moroccan qadi and scholar; his entry is not yet checked on the page.