إبراهيم بن العباس الصولي

إبراهيم بن العباس الصولي

The poet whose 'I weary of all but a sweet teller of tales' Mas'udi judged the best verse on talk that never wearies 1.

گہرائی

ایک نظر میں

جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

خلاصہ

ابراہیم بن العباس الصولی شاعر تھے۔ مسعودی کے مطابق ان کا انتقال سنہ 246ھ میں ہوا۔ 2

وہ حدیث جو اکتاتی نہیں

مسعودی کے نزدیک اس بات پر کہی گئی سب سے عمدہ بات ان کا یہ قول ہے: «میں اکتاہٹ کا شکار ہوا، سوائے ایک اچھی حدیث بیان کرنے والے سے ملاقات کے، جو مجھے مزید سکھاتا ہے»۔ 3

معزولی کا واقعہ

مسعودی روایت کرتے ہیں کہ ایک عامل نے سازش کے ذریعے انہیں معزول کیا، انہوں نے اس کی قسم کو رد کیا اور کہا کہ سلطان کی قسم ان کے نزدیک قسم نہیں، کیونکہ وہ رافضی ہے۔ عامل نے رفض کے بارے میں ان سے بات کی، دفتر منگوایا گیا، اور سازش ٹوٹ گئی۔ 2

ان کا ایک قول

مسعودی کے نقل کے مطابق وہ کہتے ہیں: بادشاہ کے ساتھیوں کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جو کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر گر پڑے ہوں، جو ان میں ہلاکت کے سب سے قریب ہے وہ چڑھائی میں سب سے آگے تھا۔ 2

یہ خبر ایک ہی ماخذ سے ہے، اس لیے اس کے لیے اضافی ماخذ کی ضرورت ہے۔

ماخذ

  1. مروج الذهب — المسعودي , p. 255
  2. مروج الذهب — المسعودي , p.492-495
  3. مروج الذهب — المسعودي , p.255
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “إبراهيم بن العباس الصولي”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ibrahim-ibn-al-abbas-al-suli/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-19.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔