ایک نظر میں
- کردار
- طبیب · سیاست دان · writer
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
اطبا کا خاندان
وہ دہلی میں پیدا ہوئے؛ ان کے مورث اعلیٰ شہنشاہ بابر کے ساتھ ہرات سے ہندوستان آئے تھے اور خاندان مغل دربار سے وابستہ ہوا 1۔ ان کے دادا حکیم محمد شریف خان شاہ عالم کے طبیب خاص تھے اور انھوں نے ’شریف منزل‘ قائم کیا، جہاں غریب مریضوں کا علاج مفت تھا 2۔ عربی مقالہ ان کی تاریخ پیدائش کو خود جوڑتا ہے: 11 فروری 1868ء بمطابق 17 شوال 1284ھ 2۔ تاہم سال متنازع ہے: انگریزی مقالہ اور ویکی ڈیٹا 11 فروری 1864ء دیتے ہیں 34، اردو مقالہ 12 فروری 1868ء دیتا ہے 1، اور عربی و اردو مضامین کے پیدائشی زمرے انھیں 1863ء کی پیدائشوں میں رکھتے ہیں۔ انھوں نے قرآن حفظ کرنے کے بعد عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی اور اپنے بڑے بھائی حکیم محمد واصل خاں سے طب پڑھی 1۔
طب
1892ء میں وہ نواب رام پور کے طبیب مقرر ہوئے 1۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مریض کا چہرہ دیکھ کر مرض کی تشخیص کر لیتے تھے؛ شہر سے باہر کے دورے پر ہزار روپے روز لیتے تھے لیکن دہلی آنے والے مریض کا علاج مفت کرتے تھے 3۔ طب یونانی کو زوال سے بچانے کے لیے انھوں نے دہلی میں سینٹرل کالج، ہندوستانی دواخانہ اور طبیہ کالج قائم کیے، اور یونانی نظام میں مغربی تصورات کو شامل کرنے کی تجویز دی، لکھنؤ مکتب کے برعکس جو اس کی خالصیت کا قائل تھا 3۔ حکومت نے انھیں ’حاذق الملک‘ کا خطاب دیا اور قوم نے ’مسیح الملک‘ کہا؛ وہ دہلی کے بے تاج بادشاہ کہلاتے تھے 1۔
سیاست اور جامعہ
انھوں نے اپنے خاندانی ہفت روزہ ’اکمل الاخبار‘ میں لکھنے سے سیاست میں قدم رکھا، 1906ء میں شملہ وفد میں شامل ہوئے اور اسی سال مسلم لیگ کے قیام کی تائید کی 13۔ 1917ء کے بعد انھوں نے گاندھی، آزاد، محمد علی جوہر اور شوکت علی کے ساتھ خلافت تحریک میں کام کیا، اور وہ واحد شخص تھے جنھوں نے انڈین نیشنل کانگریس، مسلم لیگ اور آل انڈیا خلافت کمیٹی تینوں کی صدارت کی 3۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ کی حیثیت سے انھوں نے اسے علی گڑھ سے دہلی منتقل کیا اور بار بار اپنے مال سے اس کے مالی بحران دور کیے 3۔
دین جیسا کہ ذرائع ثابت کرتے ہیں
کوئی مقالہ اجمل خان کے لیے خود کوئی مکتب فکر یا سلسلہ بیان نہیں کرتا: انگریزی مقالے کے معلوماتی خانے میں ان کے پیشوں میں «Sufi Mystic» درج ہے، جو ایک واحد ساختی وصف ہے جس کی تائید کسی مقالے کے متن میں انتساب یا بیعت کے کسی بیان سے نہیں ہوتی، اور ویکی ڈیٹا ان کا مذہب صرف ’اسلام‘ بتاتا ہے 34۔ اس لیے عجائب گھر کا ریکارڈ ان کا مکتب نامعلوم رکھتا ہے اور شواہد جوں کے توں پیش کرتا ہے۔
وہ دل کے عارضے سے 29 دسمبر 1927ء کو وفات پا گئے — انگریزی مقالے کا معلوماتی خانہ داخلی طور پر اپنے متن کے برخلاف 20 دسمبر چھاپتا ہے، جو ایک سہو ہے اور ریکارڈ اس کی پیروی نہیں کرتا 3 — اور کارول باغ میں طبیہ کالج کے قریب دفن ہوئے، جہاں ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی مدفون ہیں 2۔ ان کے بعد مختار احمد انصاری جامعہ کے شیخ الجامعہ ہوئے 3۔
مآخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذی ادارے،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہو اور ہر تبدیل شدہ واقعے کا ماخذ نام لے۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي· نادر شاه يدخل دلهي ويقتل أهلها (١٧٣٩)· افتتاح القلعة الحمراء بدلهي· حصار دلهي (١٨٥٧)
ماخذ
- Hakim Ajmal Khan — Urdu Wikipedia
- Hakim Ajmal Khan — Arabic Wikipedia
- Hakim Ajmal Khan — English Wikipedia
- Hakim Ajmal Khan — Wikidata Q3595817
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “حکیم اجمل خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hakim-ajmal-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.