حکیم اجمل خان

حكيم أجمل خان

–

دلهي

دہلی کے ہندوستانی یونانی طبیب (1868ء–1927ء)، اطبا کے اس خاندان سے تھے جو مغل دربار سے وابستہ رہا، ’مسیح الملک‘ کہلائے۔ انھوں نے دہلی میں طبیہ کالج قائم کیا، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں سے تھے اور اس کے پہلے شیخ الجامعہ (1920ء–1927ء) رہے، اور انڈین نیشنل کانگریس، مسلم لیگ اور خلافت کمیٹی کی صدارت کی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
طبیب · سیاست دان · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: عبد القادر المغربي · حاجی عبد الرحمان لمبونگ · عبد الرشید ابراہیم · عدلی يکن · أحمد الحملاوي

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    اطبا کا خاندان

    وہ دہلی میں پیدا ہوئے؛ ان کے مورث اعلیٰ شہنشاہ بابر کے ساتھ ہرات سے ہندوستان آئے تھے اور خاندان مغل دربار سے وابستہ ہوا 1۔ ان کے دادا حکیم محمد شریف خان شاہ عالم کے طبیب خاص تھے اور انھوں نے ’شریف منزل‘ قائم کیا، جہاں غریب مریضوں کا علاج مفت تھا 2۔ عربی مقالہ ان کی تاریخ پیدائش کو خود جوڑتا ہے: 11 فروری 1868ء بمطابق 17 شوال 1284ھ 2۔ تاہم سال متنازع ہے: انگریزی مقالہ اور ویکی ڈیٹا 11 فروری 1864ء دیتے ہیں 34، اردو مقالہ 12 فروری 1868ء دیتا ہے 1، اور عربی و اردو مضامین کے پیدائشی زمرے انھیں 1863ء کی پیدائشوں میں رکھتے ہیں۔ انھوں نے قرآن حفظ کرنے کے بعد عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی اور اپنے بڑے بھائی حکیم محمد واصل خاں سے طب پڑھی 1۔

    طب

    1892ء میں وہ نواب رام پور کے طبیب مقرر ہوئے 1۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مریض کا چہرہ دیکھ کر مرض کی تشخیص کر لیتے تھے؛ شہر سے باہر کے دورے پر ہزار روپے روز لیتے تھے لیکن دہلی آنے والے مریض کا علاج مفت کرتے تھے 3۔ طب یونانی کو زوال سے بچانے کے لیے انھوں نے دہلی میں سینٹرل کالج، ہندوستانی دواخانہ اور طبیہ کالج قائم کیے، اور یونانی نظام میں مغربی تصورات کو شامل کرنے کی تجویز دی، لکھنؤ مکتب کے برعکس جو اس کی خالصیت کا قائل تھا 3۔ حکومت نے انھیں ’حاذق الملک‘ کا خطاب دیا اور قوم نے ’مسیح الملک‘ کہا؛ وہ دہلی کے بے تاج بادشاہ کہلاتے تھے 1۔

    سیاست اور جامعہ

    انھوں نے اپنے خاندانی ہفت روزہ ’اکمل الاخبار‘ میں لکھنے سے سیاست میں قدم رکھا، 1906ء میں شملہ وفد میں شامل ہوئے اور اسی سال مسلم لیگ کے قیام کی تائید کی 13۔ 1917ء کے بعد انھوں نے گاندھی، آزاد، محمد علی جوہر اور شوکت علی کے ساتھ خلافت تحریک میں کام کیا، اور وہ واحد شخص تھے جنھوں نے انڈین نیشنل کانگریس، مسلم لیگ اور آل انڈیا خلافت کمیٹی تینوں کی صدارت کی 3۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ کی حیثیت سے انھوں نے اسے علی گڑھ سے دہلی منتقل کیا اور بار بار اپنے مال سے اس کے مالی بحران دور کیے 3۔

    دین جیسا کہ ذرائع ثابت کرتے ہیں

    کوئی مقالہ اجمل خان کے لیے خود کوئی مکتب فکر یا سلسلہ بیان نہیں کرتا: انگریزی مقالے کے معلوماتی خانے میں ان کے پیشوں میں «Sufi Mystic» درج ہے، جو ایک واحد ساختی وصف ہے جس کی تائید کسی مقالے کے متن میں انتساب یا بیعت کے کسی بیان سے نہیں ہوتی، اور ویکی ڈیٹا ان کا مذہب صرف ’اسلام‘ بتاتا ہے 34۔ اس لیے عجائب گھر کا ریکارڈ ان کا مکتب نامعلوم رکھتا ہے اور شواہد جوں کے توں پیش کرتا ہے۔

    وہ دل کے عارضے سے 29 دسمبر 1927ء کو وفات پا گئے — انگریزی مقالے کا معلوماتی خانہ داخلی طور پر اپنے متن کے برخلاف 20 دسمبر چھاپتا ہے، جو ایک سہو ہے اور ریکارڈ اس کی پیروی نہیں کرتا 3 — اور کارول باغ میں طبیہ کالج کے قریب دفن ہوئے، جہاں ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی مدفون ہیں 2۔ ان کے بعد مختار احمد انصاری جامعہ کے شیخ الجامعہ ہوئے 3۔

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذی ادارے، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہو اور ہر تبدیل شدہ واقعے کا ماخذ نام لے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    دلهي
    Died in
    دلهي
    Buried in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي· نادر شاه يدخل دلهي ويقتل أهلها (١٧٣٩)· افتتاح القلعة الحمراء بدلهي· حصار دلهي (١٨٥٧)

    ماخذ

    1. Hakim Ajmal Khan — Urdu Wikipedia
    2. Hakim Ajmal Khan — Arabic Wikipedia
    3. Hakim Ajmal Khan — English Wikipedia
    4. Hakim Ajmal Khan — Wikidata Q3595817
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حکیم اجمل خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hakim-ajmal-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    تتويج أورنكزيب بدلهي

    اپنے بھائیوں کے خلاف جانشینی کی جنگ کے بعد اورنگزیب نے 1659ء میں دہلی میں خود کو مغل بادشاہ قرار دیا.