ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · writer
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سر ملک فیروز خان نون (7 مئی 1893ء – 9 دسمبر 1970ء) پاکستانی سیاست دان تھے، پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم (دسمبر 1957ء – اکتوبر 1958ء)، جنھیں صدر اسکندر مرزا نے مارشل لا لگا کر ہٹایا۔1 ان کی تاریخ پیدائش 7 مئی اور 18 جون 1893ء کے درمیان متنازع ہے — وکی ڈیٹا دونوں دیتا ہے — اور انگریزی مضمون کا ایک حصہ ان کی وفات 7 دسمبر 1970ء بتاتا ہے جبکہ سرنامہ و خانہ معلومات 9 دسمبر دیتے ہیں؛ دونوں قراءتیں ان کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ پنجاب کے ضلع خوشاب کے گاؤں ہموکا میں مسلم راجپوت زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد نواب ملک سر محمد حیات خان نون کونسل آف اسٹیٹ کے رکن تھے۔3 ایچیسن کالج لاہور کے بعد وہ 1912ء میں انگلستان گئے، وادھم کالج آکسفورڈ سے 1916ء میں تاریخ میں گریجویشن کیا، اور 1917ء میں انر ٹیمپل سے وکیل بنے۔3 برطانیہ میں گزارے برسوں نے انھیں عمر بھر برطانیہ کا مداح بنا دیا۔3
برطانوی ہندوستان میں عوامی خدمت
وطن واپسی پر انھوں نے سرگودھا اور پھر لاہور ہائی کورٹ میں وکالت کی، 1920ء–21ء میں یونینسٹ پارٹی کے پلیٹ فارم سے پنجاب قانون ساز اسمبلی کے رکن بنے، اور صوبائی وزارتوں میں بلدیات (1927ء–1931ء) اور صحت و تعلیم (1931ء–1936ء) کے قلمدان سنبھالے۔3 1933ء میں انھیں نائٹ کا خطاب ملا، 1937ء میں KCIE اور 1941ء میں KCSI مقرر ہوئے۔3 1936ء–1941ء میں وہ لندن میں ہندوستان کے ہائی کمشنر رہے؛ پھر وائسرائے کی ایگزیکیٹو کونسل میں محنت و دفاع کے رکن بنے، اور 1945ء میں سان فرانسسکو میں اقوام متحدہ کے پہلے اجلاس میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔3 1945ء کے اواخر میں انھوں نے کمزور ہوتی یونینسٹ پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی، جو 1945ء–46ء کے انتخابات سے قبل ایک اہم انحراف تھا۔3
گورنری، وزارت اعلیٰ و وزارت خارجہ
اکتوبر 1947ء میں جناح نے انھیں خصوصی ایلچی کے طور پر سعودی عرب و عالم اسلام بھیجا تاکہ نئی ریاست پاکستان کا تعارف کرائیں۔3 وہ 1950ء–1953ء میں مشرقی بنگال کے گورنر رہے — اس عہدے پر ان کے جانشین چودھری خلیق الزماں بنے — اور 1953ء کے لاہور فسادات میں دولتانہ وزارت کے سقوط کے بعد 1953ء–1955ء میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے۔1 1955ء میں انھوں نے مسلم لیگ چھوڑ کر ریپبلکن پارٹی کے قیام میں حصہ لیا، اور 1956ء میں حسین شہید سہروردی کی اتحادی کابینہ میں وزیر خارجہ بنے۔4
وزارت عظمیٰ و گوادر
سہروردی اور پھر مسلم لیگ کے ابراہیم اسماعیل چندریگر کی استعفوں کے بعد نون — اتحاد کے آخری امیدوار — 16 دسمبر 1957ء کو وزیر اعظم بنے؛ وزارت عظمیٰ میں ان کے براہ راست پیشرو چندریگر تھے، جیسا کہ انگریزی و عربی مضامین کے خانہ معلومات میں درج ہے۔4 ان کی حکومت کی دیرپا کامیابی گوادر کی خریداری تھی: طویل مذاکرات کے بعد سلطنت مسقط و عمان نے یہ علاقہ حوالے کیا اور 8 ستمبر 1958ء کو یہ تیس لاکھ امریکی ڈالر کے عوض پاکستان کا حصہ بنا؛ ان مذاکرات میں ان کی اہلیہ وقار النساء نون کا بھی بڑا حصہ تھا۔3 7–8 اکتوبر 1958ء کی درمیانی شب مرزا نے اپنی ہی حکومت کے وزیر اعظم کے خلاف مارشل لا لگا دیا، اور نون قومی سیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔3
آخری ایام، کتب و وفات
حوالہ جات
تعلقات
- Predecessor of
- چودھری خلیق الزماں
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Firoz Khan Noon — Urdu Wikipedia
- Firoz Khan Noon — Wikidata Q1561693
- Firoz Khan Noon — English Wikipedia
- Firoz Khan Noon — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ملک فیروز خان نون”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/firoz-khan-noon/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.