ایک نظر میں
- کردار
- writer · عالم · activist
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
زندگی اور خدمات
وہ ڈربن کے گرے اسٹریٹ علاقے میں پیدا ہوئیں؛ ان کے والد ایم آئی میر اخبار «دی انڈین ویو» کے مدیر تھے۔ 1 انھوں نے یونیورسٹی آف نٹال سے عمرانیات میں بیچلر اور ماسٹر کی ڈگریاں لیں۔ 1
1950 میں وہ اور کیساویلو گونم نٹال انڈین کانگریس کی ایگزیکٹو میں منتخب ہونے والی پہلی خواتین بنیں۔ 1 وہ فیڈریشن آف ساؤتھ افریقن ویمن (1954) کی بانی اراکین میں شامل تھیں اور 9 اگست 1956 کی خواتین مارچ کی رہنماؤں میں سے تھیں۔ 1 حکومت نے ان پر 1952 اور پھر 1976 میں پابندی عائد کی، اور 1976 میں وہ قاتلانہ حملے میں محفوظ رہیں۔ 1
وہ 1956 سے 1988 تک یونیورسٹی آف نٹال میں عمرانیات کی لیکچرر رہیں — اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی غیر سفید فام شخصیت — اور 1972 میں انسٹیٹیوٹ فار بلیک ریسرچ قائم کیا۔ 1
تصانیف
ان کی کتابوں میں «پورٹریٹ آف انڈین ساؤتھ افریقنز» (1969)، «دی اپرنٹس شپ آف اے مہاتما» (1970) اور «ہائر دین ہوپ» (1990) شامل ہیں۔ انھیں تین اعزازی ڈاکٹریٹ ملیں، اور 2017 میں وفات کے بعد آرڈر آف لوتھولی (سلور) سے نوازا گیا۔ 1
موقف و تنقید
یہ حصہ ماخذ میں بیان کردہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔ انگریزی مضمون کے مطابق وہ ایرانی انقلاب کی مضبوط حامی تھیں، اور انھوں نے 1998 میں سلمان رشدی کے دورے کا بائیکاٹ کیا۔ 1
حوالے
- اوپر مذکور معرّف ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔
ماخذ
- Fatima Meer — English Wikipedia
- Fatima Meer — Arabic Wikipedia
- Fatima Meer — Wikidata Q429097
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “فاطمہ میر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/fatima-meer/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.