ایک نظر میں
- کردار
- شاعر · writer
- دور
- عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة
- خطہ
- persia-central-asia
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
زندگی اور تاریخیں
فرید الدین محمد بن ابراہیم عطار فارسی صوفی شاعر تھے۔ ان کی ولادت اور وفات کی تاریخیں یقین سے طے نہیں کی جا سکتیں۔ دولتشاہ ان کی ولادت 513ھ (1119ء) بتاتے ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ انہیں منگولوں نے 627ھ (1230ء) میں نیشاپور میں قتل کیا، مگر مادّہ کہتا ہے کہ نیشاپور منگولوں کے ہاتھ 617ھ (1220ء) ہی میں فتح ہو چکا تھا۔ بعض نسخوں میں ایک تاریخی شعر، نفیسی کے ایک اور ماخذ، اور میر علی شیر کے بنوائے ہوئے مقبرے کا کتبہ 586ھ (1190ء) دیتے ہیں، یعنی «منطق الطیر» لکھنے کے تین سال بعد۔ مادّہ بتاتا ہے کہ نفیسی 627ھ پر قائم ہیں، مگر وہ ایک جعلی کتاب اور جامی کے اس قول پر انحصار کرتے ہیں کہ عطار نے «اسرار نامہ» جلال الدین رومی کو دیا، جو تقریباً 616 یا 618ھ میں بلخ سے اپنے والد کے ساتھ ہجرت کر گئے تھے۔ وہ دوا فروش اور طبیب تھے، اور اگرچہ حقیقی معنوں میں صوفی نہیں تھے، بچپن سے اولیاء کا احترام کرتے اور ان کی حکایتوں سے متاثر ہوتے تھے۔ 1
تین مجموعے
ان کی طرف منسوب تصانیف تین مجموعوں میں بٹتی ہیں، جو مضمون اور اسلوب میں اتنے مختلف ہیں کہ انہیں ایک ہی شخص کی طرف منسوب کرنا مشکل ہے۔ پہلے مجموعے میں «منطق الطیر»، «الٰہی نامہ» اور «مصیبت نامہ» ہیں، ساتھ میں دیوان اور «مختار نامہ»۔ دوسرے میں «اشتر نامہ» اور «جوہر الذات»، اور تیسرے میں «مظہر العجائب» اور «لسان الغیب»۔ ایک چوتھا مجموعہ اندرونی شواہد سے ثابت کیا گیا ہے کہ ان کا نہیں۔ مادّہ دوسرے مجموعے کو ممکنہ طور پر صحیح مگر مشکوک مانتا ہے، اور تیسرے کو یقینی طور پر جعلی۔ 2
پہلا مجموعہ
اس مجموعے کی مثنویوں میں ایک واضح مرکزی قصہ ہے جس میں بہت سی ضمنی حکایتیں ہیں، اور یہی ان کا اصل حسن ہیں۔ «منطق الطیر» میں ہدہد کی رہنمائی میں پرندے سیمرغ کی تلاش میں نکلتے ہیں، جسے انہوں نے اپنا بادشاہ چنا تھا؛ سات خطرناک وادیوں کے بعد صرف تیس بچتے ہیں، جو پہچان لیتے ہیں کہ وہ خود ذات الٰہی ہیں اور سیمرغ میں فنا ہو جاتے ہیں۔ «مصیبت نامہ» میں ایک صوفی مرید کو پیر مشورہ دیتا ہے کہ تمام اساطیری اور کائناتی مخلوقات کے پاس جائے، اور آخر میں اپنے ہی وجود میں الوہیت پاتا ہے۔ «الٰہی نامہ» ایک بادشاہ کے چھ بیٹوں کی حکایت ہے جو دنیاوی چیزیں چاہتے ہیں اور باپ انہیں بلند مقاصد کی طرف لاتا ہے۔ «اسرار نامہ» میں کوئی قصہ نہیں، اور وہ عالم مادّہ میں گرفتار پہلے سے موجود روح کا عرفانی مضمون بار بار دہراتا ہے۔ «خسرو نامہ» عشق اور مہم جوئی کا رومانوی ناول ہے، اور «پند نامہ» ایک چھوٹا اخلاقی رسالہ ہے جو بہت مقبول ہوا اور ترکی میں کم از کم آٹھ بار چھپا۔ 3
دوسرا مجموعہ اور حلاج
دوسرے مجموعے میں حکایتیں کم ہیں، توجہ بیرونی دنیا سے ہٹ جاتی ہے، اور چند خیالات شدت اور جذبے کے ساتھ دہرائے جاتے ہیں: کامل فنا، جسمانی موت تک، وحدت الوجودی وحدت، اور اپنی ذات کو خدا جاننا۔ «اشتر نامہ» ایک ترک کٹھ پتلی بازیگر کے گرد گھومتی ہے، جو ذات الٰہی کی علامت ہے، اور اس کا دوسرا حصہ تقریباً مکمل طور پر حلاج کے بارے میں ہے، جو سولی پر جنید، ابن الخفیف، بایزید اور شبلی سے بات کرتے ہیں اور خدا کے طور پر وحدت الوجودی الٰہیات پیش کرتے ہیں۔ «جوہر الذات» میں بھی حلاج فنا کا نمونہ ہیں، اور اس میں ایک حکایت ہے کہ علی حوض میں الٰہی رازوں کی سرگوشی کرتے ہیں، جنہیں بعد میں اس میں اگنے والا سرکنڈا فاش کر دیتا ہے؛ مادّہ اس حکایت اور رومی کی مثنوی کے ابتدائی اشعار کے درمیان واضح تعلق دیکھتا ہے۔ 4
دوسری تصانیف اور صحت کا سوال
پہلے مجموعے میں دیوان بھی ہے، جو تہران میں بغیر علمی تحقیق کے چھپا، اور «تذکرۃ الاولیاء»، صوفیوں کے تذکروں اور اقوال کا ایک بڑا نثری کام، جو حلاج پر ختم ہوتا ہے، اور جس میں عطار نے بہت آزادی سے تصرف کیا۔ تیسرا مجموعہ «مظہر العجائب» تمام تصانیف کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے، جلال الدین رومی کی آمد کی پیش گوئی کرتا ہے، حافظ اور قاسم انوار کا ذکر کرتا ہے، اور اس میں تشیع واضح ہے، جو «لسان الغیب» میں بھی ہے۔ مادّہ کہتا ہے کہ ان دونوں کی ادبی قدر نہیں، اور وہ اپنی پہلی رائے سے رجوع کرتا ہے۔ 5
ماخذ
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 802
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 802-803
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 803
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 803-804
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 804
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “فريد الدين العطار”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/farid-al-din-attar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.