دانشمند خان

دانشمند خان

1670 عیسوی · 1081 ھ† †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

يزد

دانشمند خان (وفات 1670ء)، اصل نام شفیعا یزدی، یزد کے فارسی عالم اور سپاہی تھے؛ احمد نگر میں تجارت کے بعد شاہ جہاں کی فوجی خدمت میں داخل ہوئے، جس نے 1654ء/55ء میں ان کے علم کے اعتراف میں انھیں «دانشمند خان» کا لقب دیا؛ بعد ازاں اورنگ زیب کے عہد میں مرکزی انتظامیہ میں میر بخشی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے احوال کی معرفت زیادہ تر فرانسیسی سیاح فرانسوا برنیے کے خطوط کی مرہونِ منت ہے، جنھوں نے ان کے علم اور مغربی علوم میں گہری دلچسپی کو نمایاں کیا، اور اطالوی سیاح نیکولو مانوچی نے برنیے کی اس تصویر کی تائید کی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
تاجر · عالم · جرنیل · minister
خطہ
south-asia · persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1575عیسوی1600عیسوی1625عیسوی1650عیسوی1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی تقریباً
إمبراطوريات البارود ہم عصر: عبد القادر البغدادي · عبدالرؤف سنکیلی · أبو سالم العياشي · أحمد بن مصطفى بن الخوجة · الحصكفي محمد بن علي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    Summary

    دانشمند خان (وفات 1670ء)، اصل نام شفیعا یزدی، یزد کے فارسی عالم اور سپاہی تھے؛ احمد نگر میں تجارت کے بعد شاہ جہاں کی فوجی خدمت میں داخل ہوئے، جس نے 1654ء/55ء میں ان کے علم کے اعتراف میں انھیں «دانشمند خان» کا لقب دیا؛ بعد ازاں اورنگ زیب کے عہد میں مرکزی انتظامیہ میں میر بخشی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے احوال کی معرفت زیادہ تر فرانسیسی سیاح فرانسوا برنیے کے خطوط کی مرہونِ منت ہے، جنھوں نے ان کے علم اور مغربی علوم میں گہری دلچسپی کو نمایاں کیا، اور اطالوی سیاح نیکولو مانوچی نے برنیے کی اس تصویر کی تائید کی۔12

    یزد سے مغل دربار تک

    دانشمند خان یزد کے رہنے والے تھے اور وہیں تعلیم پائی۔ زندگی کا آغاز دکن میں احمد نگر کے تاجر کی حیثیت سے ہوا، پھر رخ بدلا اور مغل شہنشاہ شاہ جہاں کی فوجی خدمت اختیار کی۔ ایک سپاہی میں غیر معمولی علم نے شہنشاہ کی توجہ کھینچی، اور 1654ء/55ء میں شاہ جہاں نے انھیں وہ خطاب دیا جس سے تاریخ انھیں جانتی ہے: دانشمند خان، یعنی «صاحبِ علم سردار»۔ اورنگ زیب کے عہد میں وہ مرکزی انتظامیہ کے بڑے عہدوں میں سے ایک، میر بخشی، تک پہنچے۔1

    برنیے کا صاحبِ علم سردار

    دانشمند خان کے بارے میں بعد کی نسلوں کو جو کچھ معلوم ہے وہ بڑی حد تک فرانسیسی طبیب و سیاح فرانسوا برنیے کی بدولت ہے، جن کے ہندوستان سے لکھے گئے خطوط نے ان کے علم پر زور دیا۔ برنیے نے خاص طور پر اس مغل امیر کی مغرب کے علوم میں گہری دلچسپی کی طرف توجہ دلائی — ایک ایسا ذوق جس نے انھیں برنیے کے مشاہدے والے دربار کی فکری طور پر سب سے زندہ شخصیات میں رکھا۔ اطالوی سیاح نیکولو مانوچی نے، جس نے خود بھی مغل ہندوستان میں برسوں گزارے، برنیے کی کھینچی ہوئی تصویر کی آزادانہ تائید کی۔1

    دانشمند خان کی وفات 1670ء میں ہوئی۔12 کوئی پڑھا ہوا متن ان کی جائے وفات نہیں بتاتا، اور کوئی ان کی پیدائش کی تاریخ نہیں دیتا: 1625ء کا جو سال کبھی کبھی ان سے منسوب کیا جاتا ہے وہ اس ریکارڈ کے مآخذ میں ثابت نہیں، اور ان کا مذہب بھی «نامعلوم» درج ہے — اثنا عشری یزد کے فارسی، جنھوں نے سنی دربار کی خدمت کی، اور کوئی متن خود ان کے لیے کوئی مسلک نہیں بتاتا۔

    پیشہ ورانہ سفر

    ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔

    • تاجر · ایک اور پیشہ · بغیر تاریخ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    يزد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    يزد

    ماخذ

    1. Danishmand Khan — German Wikipedia
    2. Danishmand Khan — Wikidata Q29559358
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “دانشمند خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/danishmand-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    يزد

    A populous city of low prices, about thirty miles east of Kath, on the edge of a desert that joins the Khurasan road.