بینگو وا موتھاریکا

بينغو وا موثاريكا

–

ملاوی کے ماہر معاشیات اور سیاست دان (1934ء–2012ء) جو ملاوی و زیمبیا کی سول سروس، عالمی بینک اور اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن برائے افریقہ میں کام کر چکے تھے؛ بکیلی مولوزی نے انھیں اپنا جانشین منتخب کیا اور وہ 2004ء کے انتخابات جیت گئے، ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی بنائی، کھاد کی سبسڈی کے پروگرام سے غذائی تحفظ حاصل کیا، 2010ء میں افریقی یونین کے سربراہ رہے، پھر دوسری مدت میں 2011ء کے احتجاج اور معاشی زوال دیکھا اور 5 اپریل 2012ء کو عہدے پر ہی وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
east-africa
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · عبد الستار ایدھی · عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود · احمد عصمت عبد المجید · احمد بن بیلا

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور کیریئر

    وہ 24 فروری 1934ء کو تھیولو ضلع کے گاؤں کاموٹو میں برائٹسن ویبسٹر رائسن تھوم کے نام سے پیدا ہوئے اور لوموے نسلی گروہ سے تعلق رکھتے تھے؛ ان کے والدین اساتذہ اور چرچ آف اسکاٹ لینڈ مشن کے ارکان تھے۔ 1 انھوں نے بھارت اور امریکا میں تعلیم حاصل کی اور دہلی یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کیا۔ 1 وہ ملاوی و زیمبیا کی سول سروس، عالمی بینک اور اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن برائے افریقہ میں کام کر چکے تھے اور کومیسا کے سیکرٹری جنرل بھی رہے؛ 2002ء میں وہ مولوزی کی حکومت میں اقتصادی منصوبہ بندی کے وزیر بنے۔ 1

    صدارت اور وفات

    وہ 20 مئی 2004ء کے انتخابات جیت کر صدر بنے، 2005ء میں ڈیموکریٹک پروگریسیو پارٹی قائم کی، اور کھاد کی سبسڈی کے پروگرام سے ملاوی نے غذائی خود کفالت حاصل کی؛ 2009ء میں وہ دوبارہ منتخب ہوئے۔ 1 دوسری مدت میں معاشی زوال اور جولائی 2011ء کے پرتشدد احتجاج ہوئے، جن میں وزارت صحت نے 18 اموات کی تصدیق کی۔ 1 5 اپریل 2012ء کو وہ للونگوے میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے — عہدے پر مرنے والے ملاوی کے پہلے سربراہ — اور جوئس بانڈا ان کی جانشین بنیں۔ 1 2

    ریکارڈ پر نوٹ

    انگریزی مقالے کے متن کے مطابق وہ پریسبیٹیرین فرقے میں پیدا و بپتسمہ یافتہ ہوئے اور بعد میں رومن کیتھولک ہو گئے، اور اردو مقالہ انھیں ملاوی کے رومن کیتھولک میں شمار کرتا ہے؛ لیکن اس تبدیلی کی گواہی صرف ایک آزاد متن دیتا ہے، لہٰذا عجائب گھر کے دو ماخذوں کے اصول کے تحت ان کا مذہب «نامعلوم» درج ہے اور کیتھولک قراءت محفوظ رکھی گئی ہے۔ 1 3 2

    مآخذ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Successor of
    بکیلی مولوزی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    اٹوپیلے مولوزی· بکیلی مولوزی

    ماخذ

    1. Bingu wa Mutharika — English Wikipedia
    2. Bingu wa Mutharika — Wikidata Q181586
    3. Bingu wa Mutharika — Urdu Wikipedia
    4. Bingu wa Mutharika — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “بینگو وا موتھاریکا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/bingu-wa-mutharika/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    اٹوپیلے مولوزی

    ملاوی کے سیاست دان (پیدائش 1978ء)، صدر بکیلی مولوزی کے بیٹے۔ وہ 2004ء میں ماشینگا شمال مشرق سے رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے اور 2019ء تک رہے، یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کی قیادت کی، 2012ء میں ایک اپوزیشن ریلی کے بعد گرفتار ہوئے، اور صدور جوائس بانڈا اور پیٹر موتھاریکا کی حکومتوں میں اقتصادی منصوبہ بندی، قدرتی وسائل، داخلہ، اراضی اور صحت کی وزارتیں سنبھالیں، 2019ء میں صدارتی امیدوار بنے اور 2020ء میں موتھاریکا کے نائب صدارتی امیدوار تھے۔