بیگم حضرت محل

بيجوم حضرة محل

تقریباً 1820 عیسوی · 1235 ھ –

ہندوستانی ملکہ و نائب السلطنت (تقریباً 1820ء–1879ء)، نوابِ اودھ واجد علی شاہ کی دوسری بیوی اور برجیس قدر کی والدہ۔ 1856ء میں اودھ کے انگریزی قبضے اور شوہر کی جلاوطنی کے بعد 1857ء کی جنگ میں لکھنؤ کی مزاحمت کی قیادت کی، اپنے نابالغ بیٹے کی نائب کی حیثیت سے، جسے انھوں نے اودھ کا حکمران قرار دیا تھا؛ شہر کے دوبارہ قبضے کے بعد نیپال میں پناہ لی اور 7 اپریل 1879ء کو کھٹمنڈو میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران · activist
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبد الغني الميداني · عبد القادر الجزائري · أحمد علي السهارنفوري · أحمد فارس الشدياق · المامی سولوکو

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    بیگم حضرت محل (تقریباً 1820ء – 7 اپریل 1879ء)، پیدائشی نام محمدی خانم، اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کی دوسری بیوی اور 1857ء–1858ء میں اودھ کی نائب السلطنت تھیں۔ انھوں نے اپنے کم سن بیٹے برجیس قدر کو اودھ کا حکمران بنا کر تخت پر بٹھایا اور خود لکھنؤ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف باغی ریاست کی قیادت کی؛ شہر کے دوبارہ قبضے کے بعد انگریزی شرائط مسترد کیں، نیپال چلی گئیں اور کھٹمنڈو میں جلاوطنی میں وفات پائی۔ جنگ میں ان کے کردار نے انھیں ہند کی مابعد استعمار تاریخ میں ہیروئین کا درجہ دیا ہے۔ 1 2 3

    اردو مضمون بعض انگریز مصنفین کے حوالے سے ان کا پیدائشی نام «افتخار النساء» بتاتا ہے؛ انگریزی و عربی مضامین «محمدی خانم» دیتے ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ تقریباً 1820ء میں اودھ کے قدیم دارالحکومت فیض آباد میں پیدا ہوئیں۔ والدین نے انھیں بیچ دیا تو وہ پیشے کے اعتبار سے طوائف بنیں، شاہی ایجنٹوں کے ہاتھوں بکنے کے بعد خواصین کی حیثیت سے شاہی حرم میں داخل ہوئیں اور پری کے درجے تک ترقی پائی۔ واجد علی شاہ کی شاہی زوجہ کے طور پر قبول ہوئیں اور ان کی چھوٹی بیوی بنیں؛ بیٹے برجیس قدر کی ولادت کے بعد انھیں «حضرت محل» کا خطاب ملا۔ 1856ء میں انگریزوں نے اودھ پر قبضہ کیا اور واجد علی شاہ کو کلکتہ جلاوطن کردیا؛ وہ بیٹے کے ساتھ لکھنؤ ہی میں رہیں۔ 2

    1857ء کی جنگ

    جب بغاوت پھوٹی تو ان کے حامیوں — جن میں راجا ہنومنت سنگھ اور راجا جےلال سنگھ کی فوجیں شامل تھیں — نے لکھنؤ پر قبضہ کرلیا، اور انھوں نے بیٹے برجیس قدر کو اودھ کا والی (حکمران) قرار دیا اور اس کی نائب و سرپرست کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا، جس سے وہ پوری جنگ کی قیادت کے مرکز میں آگئیں۔ انھوں نے نانا صاحب کے ساتھ مل کر کام کیا اور بعد میں شاہجہان پور کے حملے میں مولوی فیض آباد کے ساتھ شامل ہوئیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف ان کی بڑی شکایات میں سڑکوں کے لیے ہندو مندروں اور مساجد کا انہدام شامل تھا؛ جنگ کے آخری دنوں کے ایک اعلان میں انھوں نے انگریزوں کے عبادت کی آزادی کے دعوے کا مذاق اڑایا اور ہندوؤں و مسلمانوں دونوں کی شکایات گنوائیں۔ جب انگریزوں نے لکھنؤ اور اودھ کا بیشتر حصہ واپس لیا تو وہ پسپا ہونے پر مجبور ہوئیں۔ 2 4

    مذہب

    اس عجائب گھر میں ان کا مذہب «نامعلوم» درج ہے، اور وجہ صراحت سے لکھی گئی ہے۔ انگریزی مضمون کا خاکہ ان کا مذہب «شیعہ اسلام» دیتا ہے، ایک ہی مقبول سوانحی صفحے کے حوالے سے؛ عربی مضمون، جو بنیادی طور پر انگریزی کی پیروی کرتا ہے، اپنے خاکے میں بغیر حوالے کے «مسلم، شیعہ» دیتا ہے؛ اردو مضمون انھیں «ہندوستانی شیعہ شخصیات» کے زمرے میں رکھتا ہے۔ کسی مضمون کا متن ان کے ذاتی مذہب پر گفتگو نہیں کرتا، اور ویکی ڈیٹا صرف «اسلام» دیتا ہے۔ اودھ کا شاہی خاندان، جس میں ان کی شادی ہوئی، اثنا عشری شیعہ تھا، لیکن وہ اس خاندان میں پیدا نہیں ہوئیں بلکہ اس کے دربار میں بیچ کر لائی گئی تھیں، لہٰذا خاندان کا مذہب شادی اور سماج کا سیاق ہے، ان کے ذاتی عقیدے کی شہادت نہیں۔ ایک ہی خاکہ روایت اور ایک زمرہ درجے کی بنیاد پر عجائب گھر کوئی مسلک درج نہیں کرتا؛ قرائتیں ان کے ڈیٹا نوٹ میں محفوظ ہیں۔ 2 4 1 3

    جلاوطنی و وفات

    وہ نیپال چلی گئیں، جہاں رانا وزیر اعظم جنگ بہادر نے پہلے پناہ سے انکار کیا لیکن بعد میں رہنے کی اجازت دے دی۔ وہیں 7 اپریل 1879ء کو وفات پائی اور کھٹمنڈو کی جامع مسجد کے احاطے میں ایک بے نام قبر میں دفن ہوئیں؛ ان کی قبر، وسط کھٹمنڈو میں گھنٹہ گھر کے قریب، جامع مسجد کی مرکزی کمیٹی کی دیکھ بھال میں ہے۔ ان کی وفات کے بعد، ملکہ وکٹوریا کی 1887ء کی جوبلی کے موقع پر، برطانوی حکومت نے برجیس قدر کو معاف کیا اور وطن واپسی کی اجازت دی۔ 2

    یادگاریں

    15 اگست 1962ء کو لکھنؤ کے حضرت گنج میں واقع قدیم وکٹوریا پارک میں انھیں خراج پیش کیا گیا، پارک کا نام ان کے نام پر رکھا گیا اور وہاں اودھ کے شاہی خاندان کے نشان والی سنگ مرمر کی یادگار تعمیر ہوئی۔ حکومتِ ہند نے 10 مئی 1984ء کو ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا، اور اقلیتی برادریوں کی ہونہار طالبات کے لیے قومی وظیفہ اب ان کے نام سے منسوب ہے۔ 2

    ماخذ

    1. Begum Hazrat Mahal — Urdu Wikipedia
    2. Begum Hazrat Mahal — English Wikipedia
    3. Begum Hazrat Mahal — Wikidata Q717960
    4. Begum Hazrat Mahal — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “بیگم حضرت محل”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/begum-hazrat-mahal/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔