اذلان شاہ

عزلن محب الدين شاه

–

1984ء سے 2014ء تک سلطانِ پیراک اور ملائیشیا کے نویں یانگ دی پرتوان آگونگ (1989ء–1994ء)۔ 1928ء میں باتو گاجہ میں پیدا ہوئے، ملایا کی عدلیہ میں ترقی کر کے 1965ء میں ہائی کورٹ کے سب سے کم عمر جج اور 1982ء میں فیڈرل کورٹ کے سب سے کم عمر لارڈ پریذیڈنٹ بنے، پھر پیراک کے تخت پر بیٹھے؛ 2009ء میں پیراک اسمبلی تحلیل کرنے سے ان کے انکار کو عدالتوں نے برقرار رکھا، اور وہ ملائیشیائی ہاکی کے بانی کے طور پر معروف ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan · فقیہ
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · عبد الستار ایدھی · عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود · علی حسن موینی · علی جوان

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سلطان اذلان شاہ (1928ء–2014ء) 1984ء سے اپنی وفات تک سلطانِ پیراک اور 1989ء سے 1994ء تک ملائیشیا کے نویں یانگ دی پرتوان آگونگ رہے۔ تخت سے پہلے وہ جج تھے: 1965ء میں ملایا کی ہائی کورٹ میں مقرر ہونے والے سب سے کم عمر جج اور 1982ء میں فیڈرل کورٹ کے سب سے کم عمر لارڈ پریذیڈنٹ۔ 2009ء میں حکومت کی تبدیلی کے دوران پیراک کی ریاستی اسمبلی تحلیل کرنے سے ان کے انکار کو عدالتوں نے برقرار رکھا، اور فیلڈ ہاکی کے لیے ان کی عمر بھر کی خدمات نے انھیں ملائیشیائی ہاکی کے بانی کا نام دیا۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    راجا اذلان شاہ 19 اپریل 1928ء کو پیراک کے باتو گاجہ کے کامپونگ مانگس میں سلطان یوسف عز الدین شاہ کے ان کی دوسری اہلیہ توہ پوان بیسار خدیجہ سے سب سے چھوٹے بیٹے پیدا ہوئے اور والدہ نے شاہی حلقوں سے باہر ان کی پرورش کی۔ انھوں نے باتو گاجہ کے گورنمنٹ انگلش اسکول اور ملے کالج کوالا کانگسار میں تعلیم پائی، پھر یونیورسٹی آف ناٹنگھم سے قانون پڑھا اور 1953ء میں ڈگری حاصل کی؛ 23 نومبر 1954ء کو وہ انگلش بار میں داخل ہوئے۔ اسکول ہی میں انھوں نے فیلڈ ہاکی شروع کی جو انھوں نے پیراک کے لیے کھیلی اور کبھی نہ چھوڑی۔ 3

    عدالتی زندگی

    ملایا واپس آ کر اذلان شاہ عدالتی و قانونی سروس میں شامل ہوئے اور تیزی سے ترقی کی — سیشن کورٹ کے صدر، وفاقی وکیل، نائب سرکاری وکیل، پہانگ کے قانونی مشیر، ہائی کورٹ کے رجسٹرار اور فیڈرل کورٹ کے چیف رجسٹرار۔ 1965ء میں، سینتیس سال کی عمر میں، وہ ملایا کی ہائی کورٹ میں مقرر ہونے والے سب سے کم عمر جج بنے؛ 1973ء میں فیڈرل کورٹ میں شامل ہوئے، 1979ء میں ہائی کورٹ آف ملایا کے چیف جسٹس بنے، اور 12 نومبر 1982ء کو ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی منصب، فیڈرل کورٹ کے سب سے کم عمر لارڈ پریذیڈنٹ، مقرر ہوئے۔ 3 4

    سلطانِ پیراک اور ملائیشیا کے بادشاہ

    بڑے بھائیوں کی وفات کے ساتھ پیراک کی ولایت میں اذلان شاہ کا درجہ بڑھتا گیا: یکم جولائی 1983ء کو وہ راجا مودا (ولی عہد) مقرر ہوئے، اپنے چچا زاد سلطان ادریس شاہ دوم کی وفات پر 3 فروری 1984ء کو تخت نشین ہوئے، اور 9 دسمبر 1985ء کو پیراک کے چونتیسویں سلطان کے طور پر منصّب ہوئے۔ 1989ء میں وہ نویں یانگ دی پرتوان آگونگ منتخب ہوئے — پیراک کے حکمران نو ملے حکمرانوں میں آخری تھے جنھوں نے اس منصب کے پہلے دور میں خدمات انجام نہیں دی تھیں — اور پانچ سالہ مدت کے بعد 1994ء میں پیراک لوٹ آئے۔ ان کا کل دور تیس سال رہا، جو آزادی کے بعد پیراک کا طویل ترین دور ہے۔ وہ 1983ء سے اپنی وفات تک یونیورسٹی آف ملایا کے چانسلر رہے۔ 3 1

    2009ء کا بحران، ہاکی اور وفات

    2009ء میں جب پیراک میں تین ارکانِ اسمبلی نے وفاداری بدلی تو وزیرِ اعلیٰ محمد نزار جمال الدین نے سلطان سے اسمبلی تحلیل کرنے کی درخواست کی۔ اذلان شاہ نے شاہی صوابدید کا حوالہ دے کر انکار کیا اور حکومت سے استعفیٰ طلب کیا؛ ہائی کورٹ نے پہلے ان کے خلاف فیصلہ دیا، لیکن اپیل کورٹ اور پھر فیڈرل کورٹ نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ پیراک کا آئین انھیں یہ صوابدید دیتا ہے۔ تخت سے ہٹ کر وہ ملائیشیائی ہاکی کی مرکزی شخصیت تھے: 2005ء تک ملائیشیائی ہاکی فیڈریشن کے صدر، 1997ء سے اپنی وفات تک ایشین ہاکی فیڈریشن کے صدر، 1983ء میں سلطان اذلان شاہ کپ کے بانی، اور ملائیشیا کی 1975ء اور 2002ء کے ورلڈ کپ کی میزبانی میں پیش پیش۔ سلطان اذلان شاہ 28 مئی 2014ء کو کوالا لمپور کے نیشنل ہارٹ انسٹیٹیوٹ میں چھیاسی سال کی عمر میں وفات پا گئے اور اگلے دن کوالا کانگسار کے الغفران شاہی مقبرے میں دفن ہوئے۔ اس ریکارڈ کے لیے پڑھے گئے کسی ماخذ میں ان کے لیے کوئی مذہبی مکتب بیان نہیں ہوا، اور یہ ریکارڈ کوئی مکتب درج نہیں کرتا۔ 3 2

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام لینا چاہیے۔

    پیشہ ورانہ سفر

    ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔

    • فقیہ · ایک اور پیشہ · بغیر تاریخ

    ماخذ

    1. Azlan Shah — Urdu Wikipedia
    2. Azlan Shah — Wikidata Q561319
    3. Azlan Shah — English Wikipedia
    4. Azlan Shah — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “اذلان شاہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/azlan-shah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔