امینہ کاشالیا

أمينة كاشاليا

–

جنوبی افریقی نسل پرستی مخالف کارکن، خواتین کے حقوق کی علمبردار اور سیاست دان، جو 1930 میں ویرینِگنگ میں پیدا ہوئیں۔ فیڈریشن آف ساؤتھ افریقن ویمن کی رہنما، پندرہ برس نظربندی میں رہیں، 1994 کے پہلے جمہوری انتخابات میں قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں، اور نیلسن منڈیلا کی دیرینہ دوست اور حلیف تھیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
activist · سیاست دان
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · عبد الستار ایدھی · عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود · احمد عصمت عبد المجید · احمد کیتھراڈا

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    امینہ کاشالیا (28 جون 1930 – 31 جنوری 2013) جنوبی افریقی نسل پرستی مخالف کارکن، خواتین کے حقوق کی علمبردار اور سیاست دان تھیں۔ 1 2 وہ نیلسن منڈیلا کی دیرینہ دوست اور حلیف، فیڈریشن آف ساؤتھ افریقن ویمن کی رہنما، اور 1994 میں قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ 1

    زندگی اور خدمات

    وہ امینہ اسوات کے نام سے ویرینِگنگ میں پیدا ہوئیں؛ ان کے والدین سیاسی کارکن تھے اور بہن زینب اسوات بھی کارکن تھیں۔ 1 نوجوانی میں ہی انھوں نے نسل پرستی کے خلاف مہم شروع کی اور 1948 میں ویمنز پروگریسو یونین کی بانی اراکین میں شامل ہوئیں۔ 1

    1952 میں ڈیفائنس مہم کے دوران وہ گرفتار ہوئیں اور چودہ دن قید کاٹی۔ 1 1954 میں فیڈریشن آف ساؤتھ افریقن ویمن کے قیام پر وہ اس کی اسٹیئرنگ کمیٹی میں شامل اور خزانچی رہیں، اور بعد میں پندرہ برس نظربندی میں گزارے۔ 1

    ان کے شوہر یوسف کاشالیا 1995 میں وفات پائے؛ اسی برس نیلسن منڈیلا نے ان سے شادی کی پیشکش کی جسے انھوں نے ٹھکرا دیا۔ 1 وہ 31 جنوری 2013 کو جوہانسبرگ میں وفات پا گئیں، اور ان کی نمازِ جنازہ روایتی مسلم رسوم کے مطابق ادا کی گئی۔ 1

    تصانیف

    ان کی خودنوشت «وین ہوپ اینڈ ہسٹری رائم» وفات کے بعد مارچ 2013 میں شائع ہوئی۔ 2004 میں انھیں آرڈر آف لوتھولی (برونز) اور یونیورسٹی آف وٹواٹرسرینڈ سے اعزازی ڈاکٹریٹ ملی۔ 1

    موقف و تنقید

    یہ حصہ ماخذ میں بیان کردہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔ ماخذ کے مطابق ان کی جدوجہد کا مرکز اکثر خواتین کا معاشی استقلال تھا، اور انھوں نے حکومت کے علاحدہ انتخابی منصوبوں کی مخالفت کی۔ 1

    حوالے

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    ماخذ

    1. Amina Cachalia — English Wikipedia
    2. Amina Cachalia — Arabic Wikipedia
    • Amina Cachalia — Wikidata Q4746339
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “امینہ کاشالیا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/amina-cachalia/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔