احمد یار خان نعیمی

أحمد يار خان النعيمي

–

برصغیر کے مفسر، مفتی اور عالم (1894ء–1971ء، متنازع تاریخِ ولادت اس کے نوٹ میں درج ہے)، اوجھیانی، ضلع بدایوں میں پیدا ہوئے اور گجرات (پنجاب، پاکستان) میں وصال ہوا، جہاں انھوں نے برسوں تدریس و افتا کیا۔ مدرسہ شمس العلوم بدایوں اور جامعہ نعیمیہ مراد آباد سے تعلیم پائی، «حکیم الامت» کا لقب ملا، اور مشہور تصانیف میں «تفسیر نعیمی» (11 جلدیں) اور «مرآۃ المناجیح» شامل ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحمید خان بھاشانی · عبد الماجد دریابادی · شیخ عبد المجید سندھی · عبد الله الموسوي الشيرازي · علاؤالدین خان

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    مفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی بدایونی گجراتی (ولادت: 1324ھ/1894ء، وفات: 1391ھ/1971ء) مشہور عالم دین، مفسرِ قرآن، شارحِ حدیث، مفتی، مفکر، نعت گو شاعر اور بہت سی کتب کے مصنف تھے، جو «مفسر شہیر» اور «حکیم الامت» جیسے القاب سے جانے جاتے ہیں؛ ان کی مشہور کتب میں «تفسیر نعیمی» (11 جلدیں)، «تفسیر نورالعرفان»، «مرآۃ المناجیح» (8 جلدیں) اور «جاء الحق» شامل ہیں۔1 انگریزی مضمون انھیں سنی عالم، مفسر، فقیہ اور صوفی کہتا ہے۔2

    ولادت اور اس کا اختلاف

    ان کی ولادت صبح صادق کی ساعتوں میں محلہ کھیڑہ، بستی اوجھیانی، ضلع بدایوں میں ہوئی؛ اردو سوانح کے مطابق آپ یکم مارچ 1894ء کو 4 جمادی الاولیٰ 1324ھ جمعرات کے دن پیدا ہوئے، تاہم اسی مضمون میں یہ تصریح بھی ملتی ہے کہ ولادت کا سال 1324ھ/1906ء بھی ملتا ہے، جس کی سند حیاتِ سالک، مہر علی شاہ کی الیواقیت المہریہ اور شرف قادری کے تذکرہ اکابر اہلِ سنت سے دی گئی ہے، اور کوکب کے حوالے سے شوال 1314ھ کی روایت بھی درج ہے۔1 عربی مضمون، جو موسوعۃ الحضارة الاسلامیہ سے ماخوذ ہے، ان کے اعوام 1324–1391ھ/1904–1971ء دیتا ہے اور وکی ڈیٹا بھی 1904 دیتا ہے۔3 یہ تضاد ریکارڈ میں چھپایا نہیں گیا؛ اختیار وہی تاریخ کی گئی ہے جو انگریزی اور اردو مضامین کے سرے پر ہے۔

    تعلیم و تدریس

    انھوں نے قرآن پاک سے لے کر فارسی کی نصابی تعلیم اور درسِ نظامی کی ابتدائی کتب اپنے والد مولانا محمد یار خان بدایونی سے پڑھیں، جامعہ شمس العلوم بدایوں میں قدیر بخش بدایونی کی نگرانی میں تین سال تعلیم حاصل کی، اور جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں سید محمد نعیم الدین مراد آبادی اور مشتاق احمد صدیقی کانپوری سے فیض حاصل کر کے انیس برس کی عمر میں سندِ فراغت حاصل کی۔1 سندِ فراغت کے بعد انھوں نے جامعہ نعیمیہ مراد آباد، جامعہ مسکینیہ دھوراجی (کاٹھیاواڑ)، کچھوچھہ شریف اور بھکھی شریف میں تدریس کی، پھر ضلع گجرات (پنجاب، پاکستان) منتقل ہو گئے، جہاں بارہ تیرہ سال دار العلوم خدام الصوفیہ اور دس برس انجمن خدام الرسول میں تدریس و افتا کیا، اور سوائے «علم المیراث» کے اپنی تمام تصانیف گجرات کے قیام میں تحریر کیں۔1

    تصانیف

    ان کی تصانیف کی کل تعداد پانچ سو بتائی جاتی ہے، جن میں سے کئی تقسیم کے موقع پر ضائع ہو گئیں؛ مشہور مطبوعہ کتب میں «تفسیر نعیمی» — جس کی پہلی جلد 1363ھ/1944ء میں لکھی گئی اور جو وصال کے وقت گیارہویں پارے تک پہنچی تھی — «مرآۃ المناجیح»، «نعیم الباری فی انشراح بخاری»، «جاء الحق»، «فتاویٰ نعیمیہ»، «اسرار الاحکام»، «اسلامی زندگی»، «سلطنت مصطفےٰ» اور «دیوانِ سالک» شامل ہیں۔1

    وصال

    بتاریخ 3 رمضان المبارک 1391ھ (24 اکتوبر 1971ء) کو آپ کا وصال ہوا اور مزار گجرات شہر (پنجاب، پاکستان) میں ہے۔1

    حوالہ جات

    {1} {2} {3} {4}

    ماخذ

    1. Ahmad Yar Khan Naeemi — Urdu Wikipedia
    2. Ahmad Yar Khan Naeemi — English Wikipedia
    3. Ahmad Yar Khan Naeemi — Arabic Wikipedia
    4. Ahmad Yar Khan Naeemi — Wikidata Q31559
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد یار خان نعیمی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmad-yar-khan-naimi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔