ایک نظر میں
- کردار
- traveler
- خطہ
- arabia
- جائزہ
خلاصہ
ابو رغال عرب روایات کی ایک افسانوی شخصیت ہیں، جن کے بارے میں دو بالکل مختلف روایتیں ملتی ہیں۔ مدخل پر ایس اے بونیباکر کے دستخط ہیں۔ 1
پہلی روایت: ابرہہ کا رہنما
پہلی روایت کے مطابق وہ طائف کے ثقفی تھے جنہوں نے ابرہہ کو مکہ کا راستہ دکھایا، اور مغمس میں فوت ہو کر وہیں دفن ہوئے؛ ان کی قبر پر پتھر مارنے کا رواج تھا، جس کی موسوعہ جمرہ کے ایک مماثل رواج سے تقابل کرتی ہے۔ یہ قصہ کبھی ثقیف کو بدنام کرنے کے لیے بھی سنایا جاتا ہے۔ اس کا سب سے قدیم ذکر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ایک شعر میں ملتا ہے، اگر وہ جعلی نہ ہو، اور جریر کا یہ شعر اس رواج کے قدیم ہونے کی دلیل ہے: «اگر فرزدق مر جائے تو اسے پتھر مارو جیسے ابو رغال کی قبر پر پتھر مارتے ہو»۔ 1
دوسری روایت: ثمود کا بچ جانے والا
دوسری روایت، جو طبری اور احمد بن حنبل کے ہاں سادہ ترین شکل میں ملتی ہے، کے مطابق ابو رغال ثمود میں سے واحد بچ جانے والے تھے۔ عذاب کے وقت وہ مکہ میں تھے اور حرم کی حرمت سے بچ گئے، مگر مکہ سے نکلتے ہی فوت ہو گئے، اور نبیؐ نے جب اپنے لشکر کے ساتھ حجر سے گزرتے ہوئے یہ قصہ سنایا۔ موسوعہ متنبہ کرتی ہے کہ اس روایت میں ان کا ثقیف سے تعلق نہیں، اور یہ تعلق بعد میں شامل ہوا، شاید پہلی روایت کے اثر سے۔ 1
بعد کی روایات اور مآخذ
مادہ بتاتا ہے کہ ثقیف دوسری روایت میں بھی آتے ہیں، ایک صورت میں انہی نے ابو رغال کو قتل کیا، جو ظالم اور سنگدل شخص تھے۔ بعد کے مصنفین ان دونوں روایتوں کو مزید خلط ملط کرتے ہیں، اور دیاربکری ان کا نام زید بن مخلف بتاتے ہیں۔ کتابیات میں جمحی (طبقات)، ابن اسحاق، ابن قتیبہ (المعارف)، طبری، مسعودی، ازرقی، الاغانی اور یاقوت کا حوالہ ہے۔ مدخل پر ایس اے بونیباکر کے دستخط ہیں۔ 2
ماخذ
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 163
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 164
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ابو رغال”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abu-righal/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.