دلوں پر مہر لگانا

الختم على القلوب

شعراوی کے مطابق دل پر مہر لگانے کا مطلب ہے کہ اس میں موجود کفر نہیں نکلتا اور ایمان داخل نہیں ہوتا۔ یہ مہر اس وقت لگتی ہے جب کافر کفر کو اختیار کر کے اس پر اصرار کرتا ہے، اور اللہ اسے پہلے سے جانتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دل کا ذکر کان اور آنکھ سے پہلے اس لیے ہے کہ دل باطنی ادراک کا مقام ہے 1 2۔ یہ شعراوی کی تفسیر ہے اور ان کی طرف منسوب ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

خلاصہ

شعراوی کے مطابق دل پر مہر لگانے کا مطلب ہے کہ اس میں موجود کفر نہیں نکلتا اور ایمان داخل نہیں ہوتا۔ یہ مہر اس وقت لگتی ہے جب کافر کفر کو اختیار کر کے اس پر اصرار کرتا ہے، اور اللہ اسے پہلے سے جانتا ہے۔ 1 2

دل کو پہلے رکھنا

شعراوی کہتے ہیں کہ البقرة 7 میں دل کا ذکر کان اور آنکھ سے پہلے ہے کیونکہ یہ باطنی ادراک کا مقام ہے، اور مہر کا مطلب ہے نہ کوئی نیا ادراک داخل ہو اور نہ پرانا نکلے۔ 2

مصنف کی رائے

یہ شعراوی کی تفسیر ہے اور ان کی طرف منسوب ہے۔ مہر پر کوئی دوسری تفسیری یا کلامی رائے پیش نہیں کی گئی، اور یہاں جانچ نہیں ہوئی۔

ماخذ

  1. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.142
  2. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.143
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “دلوں پر مہر لگانا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/khatm-ala-al-qulub/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔